اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے خطے کے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور اس نتیجے پر ختم ہو کہ ایران باضابطہ طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹروں کو ان جوہری مراکز کے معائنے کی دعوت دے جنہیں حالیہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ان جوہری تنصیبات کا آخری معائنہ جنگ شروع ہونے سے قبل جون 2025 میں کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس اقدام پر رضامند ہو جاتا ہے تو اسے مذاکرات کے نئے مرحلے سے تہران کی سنجیدگی اور وابستگی کی عملی علامت تصور کیا جائے گا۔
آکسیوس کے دعوے کے مطابق امریکہ اس کے بدلے میں سفارتی عمل کی حمایت کے لیے بعض متبادل اقدامات پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے، جن میں بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے ایک حصے تک رسائی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل میں شریک ہو سکیں، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر محمدباقر قالیباف کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اجلاس کے بعد یہ ایران اور امریکہ کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت ہے، جس کا مقصد ساٹھ روزہ سفارتی عمل کے لیے ایک عملی فریم ورک تیار کرنا ہے۔ اس عمل میں ایران کے جوہری پروگرام اور باہمی مفاہمتوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار سمیت اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
آکسیوس نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور پاکستان اس مذاکراتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل بھی ان ملاقاتوں میں شریک ہیں۔ توقع ہے کہ اعلیٰ سطحی سیاسی مذاکرات کے بعد فنی اور تکنیکی سطح پر بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
آپ کا تبصرہ